تفسیر سورۃ التوبة 9:61

﴿وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾

ترجمۂ معانی

ان میں سے وه بھی ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کان کا کچا ہے، آپ کہہ دیجئے کہ وه کان تمہارے بھلے کے لئے ہے وه اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مسلمانوں کی بات کا یقین کرتا ہے اور تم میں سے جو اہل ایمان ہیں یہ ان کے لئے رحمت ہے، رسول اللہ ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ کو جو لوگ ایذا دیتے ہیں ان کے لئے دکھ کی مار ہے۔

Urdu Translation - Muhammad Junagarhi — v1.1.3 · QuranEnc.com

دونوں ائمہ کا کلام اصل عربی میں لفظ بلفظ، حوالوں کے ساتھ دیا گیا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ

ففرق بين إيمانه بالله وإيمانه للمؤمنين؛ لأن المراد يصدق المؤمنين إذا أخبروه«مجموع الفتاوى» 10/270
وأما إيمانه بالله فهو من باب الإقرار به.«مجموع الفتاوى» 10/270

امام ابن القیم

فجعلهم مؤذين له بقولهم: (هو أذن)«أحكام أهل الذمة» 3/1391
تفاعلی تفسیر میں کھولیں (مکمل متون)
پچھلی آیت (9:60)اگلی آیت (9:62)